فهرس الكتاب

الصفحة 1203 من 6343

30)محمد بن اسحاق نے زھرہ سے روایت کی ہے کہ جب قریش کے کچھ لوگ میدان بدر سے بھاک کر مکہ واپس پہنچے اور ابو سفیان کا قافلہ بھی پہنچا تو جن کے رشتہ دار لوگ مارے گئے تھے انہوں نے ابو سفیان اور دوسرے ان لوگوں سے بات کی جب کا مال تجارت شام سے آیا تھا، کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوبارہ جنگ کی تیاری کے لیے مال کے ذریعہ مدد کریں تو ان تاجروں نے اس غرض کے لیے مال اکٹھا کیا انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں ان کے انجام کی خبر دی گئی چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ذلیل ورسوا ہوئے مارے گئے اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ضحا کی رائے ہے کہ جب بارہ مشرکین قریش نے میدان بدر میں لشکر کفر کو باری باری اونٹ کا گوشت اور کھانا کھلا یا تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی، بہت حال آیت کا حکم عام ہے، اور اسلام وکفر کی جنگ میں جو شخص بھی اپنے مال کے ذریعہ کافروں کی مدد کرے گا وہ آیت میں مذکور ودنیاوی اور اخروی عذاب کا مستحق ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت