فهرس الكتاب

الصفحة 2642 من 6343

(16) جب مسجد بن کر تیار ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو اس مسجد کی زیارت اور حج کرنے کے لیے پکاریں۔

مفسر واحدی نے دیگر مفسرین کے حوالے سے لکھا ہے، انہوں نے آواز لگائی کہ لوگو ! تمہارے رب نے تم پر مسجد حرام کا حج فرض کردیا ہے، اس لیے تم اس کی زیارت اور حج کرنے کے لیے یہاں آؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کی ندا کو دنیا میں پھیلا دیا، اور جب تک دنیا رہے گی لوگ اس مسجد کی زیارت اور حج کے لیے پیدل چل کر اور سواریوں پر مشرق اور مغرب اور شمال و جنوب کے دور دراز علاقوں سے آتے رہیں گے۔

آیت (28) میں حج کی غرض و غایت بتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے حج میں بہت سے دینی اور دنیوی فوائد جمع کریدئے ہیں، دینی فوائد تو یہ ہیں کہ اللہ حاجیوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور وہ اپنے رب کی رضا و خوشنودی لے کر اپنے گھروں کو واپس ہوتے ہیں۔ اور دنیوی فوائد یہ ہیں کہ پورے سفر حج میں وہ تجارت کرتے ہیں، صنعت و حرفت سیکھتے ہیں، اور جو تجربات حاصل کرتے ہیں ان کے لیے آئندہ تجارتی زندگی میں مفید ہوتے ہیں۔ اور ایام تشریق (دس تاریخ سے تیرہ تاریخ تک) میں اللہ کا نام لے کر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

زمخشری نے لکھا ہے کہ یہاں اللہ کا نام لینے سے مراد ذبح کرنا ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل اسلام جب بھی قربانی کریں گے یا گوشت کھانے کے لیے جانور ذبح کریں گے تو اللہ کا نام ضرور لیں گے اس لیے کہ مقصود ہر حال میں اللہ کا نام لینا ہے، اور رازی نے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ مقصود ان مشرکین کی مخالفت ہے جو بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جس جانور کی قربانی کرو اس کا گوشت خود بھی کھاؤ اور ان محتاجوں کو کھلاؤ جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت