(22) مشرکین مکہ اپنے کفر و شرک کے لیے اللہ کی تقدیر کو دلیل بناتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ہم اللہ کے سوا غیروں کی عبادت کرتے ہیں اور اپنی طرف سے کچھ جانوروں کو حرام کہتے ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ایسا کرتے رہے ہیں تو اس میں ہمارا اور ان کا کوئی قصور نہیں ہے، یہ تو اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اگر اس کی مرضی نہ ہوتی جیسا کہ محمد کا گمان ہے تو ہم ایسا نہ کرتے، تو گویا ہمارا اس کی مرضی کے مطابق ایسا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محمد جھوٹا ہے اور اللہ کی طرف غلط بات منسوب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح کے ذہنی شبہ میں مبتلا ہوتے رہے اور انہی جیسی جھوٹی بات اللہ کی طرف منسوب کرتے رہے ہیں، پھر ان کے شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ اس نے تمہارے شرک و کفر کی تردید نہیں کی، بلکہ اس نے اس کا شدید انکار کیا ہے اور انتہائی سختی کے ساتھ اس سے روکا ہے اور ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے انبیاء بھیجے ہیں جنہوں نے صرف اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور غیروں کی عبادت سے روکا۔ آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے لیکر نبی کریم تک تمام انبیاء کی ایک ہی دعوت تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، صرف وہی عبادت کے لائق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں آیت (36) میں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے ہر قوم کے لیے ایک رسول بھیجا جس نے انہیں اس بات کی تعلیم دی کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان اور بتوں کی عبادت سے دور رہو، اس لیے کسی مشرک کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم غیروں کی عبادت نہ کرتے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خیر و شر وار جنت و جہنم کے دونوں راستے بتا دیئے، خیر کی راہ پر چلنے کا حکم دیا اور شر کی راہ سے منع فرمایا، بلکہ اس سے زیادہ یہ کیا کہ مشرکوں کو دنیا میں ان کے شرک کی سزا دی، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ ان کے شرکیہ اعمال سے راضی نہیں ہے، آیت (36) کے آخر میں یہی بات کہی گئی ہے، خیر و شر کی اس وضاحت و صراحت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب اور مشیت کونی کے مابق جسے چاہا خیر کی توفیق دی اور جسے چاہا بھٹکتا چھوڑ دیا۔