(8) آیات (14,13) میں لقمان کی نصیحتوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی بات ہے اور اس سے مقصود شرک باللہ کی نفی کی تاکید ہے جسکا لقمان کی نصیحت میں اوپر ذکر آچکا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے بالخصوص اپنی ماں کے ساتھ جو پوری مدت حمل اسے اپنے پیٹ میں ڈھوئے پھری، کئی طرح کی کمزوریوں اور تکلیفوں کو برداشت کیا، مدت حمل پوری ہونے کے بعد زچگی اور پھر دو سال تک رضاعت کی مصیبتوں کو جھیلا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک صحابی نے دریافت کیا کہ میرے حسن سلوک کا زیادہ حقدار کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تمہاری ماں صحابی نے پوچھا: پھر کون؟ تو آپ نے فرمایا: تمہاری ماں صحابی نے پوچھا: پھر کون؟ تو آپ نے کہا: تمہاری ماں صحابی نے پھر پوچھا: پھر کون؟ تو آپ نے فرمایا: تمہارا باپ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں " صرف اپنی عبادت اور اطاعت والدین" کو ایک ساتھ بیان کیا ہے سورۃ الاسراء آیت (23) میں فرمایا ہے: (وقضی ربک الاتعبدوالا ایاہ وبالوالدین احسانا) " آپ کے رب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو" اور یہاں لقمان کی شرک باللہ کی نفی کی نصیحت کے بعد فوراً فرمایا: (ووصینا الانسان بوالدذیہ) " ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے" اور اس وصیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: (ان اشکرلی ولوادلدیک" " میری طاعت و بندگی کرو اور زبان و دل سے میرا شکر ادا کرتے رہو، اور ماں باپ کا بھی شکر ادا کرتے رہو" وہ یوں کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان کی ہر اس بات کو مانو جس میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ ہو اور آیت کے آخر میں فرمایا:(الی المصیر) " تم سب کو میری پاس ہی لوٹ کر آنا ہے" اس لئے اگر تم میرا اور اپنے والدین کا شکر بجا لاؤ گے تو اچھا بدلہ پاؤ گے اور اگر نافرمانی اور سرکشی کی راہ اختیار کرو گو تو برا بدلہ پاؤ گے۔
قاضی بیضاوی نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدت رضاعت دو سال ہے۔ ان کی دوسری دلیل سورۃ البقرہ کی آیت (233) ہے: (والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین) " مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں گی" اور ابن عباس (رض) اور دیگر ائمہ نے مذکورہ بالا دونوں آیتوں اور سورۃ الاحقاف کی آیت (15) (وحملہ وفصالہ ثلامون شہراً) کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ ماہ ہے۔
آیت (15) میں اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تمہارے والدین تمہیں شرک پر مجبور کریں تو ان کی بات نہ مانو اور جب تک دنیا میں تمہارا اور ان کا ساتھ رہے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اور ان لوگوں کی راہ پر چلو جو میرے نیک اور مخلص بندے ہیں اور لوگوں کو میری عبادت کی دعوت دیتے ہیں مفسرین لکھتے ہیں کہ ان سے مراد بدرجہ اولی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور پھر دیگر صالح مسلمان ہیں اللہ نے آگے فرمایا: پھر مر جانے کے بعد تمہیں میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ اسی وقت میں تمہیں تمہارے تمام کرتوتوں کی خبر دوں گا اور ان کے مطابق اچھا یا برا بدلہ دوں گا۔
ابویعلی اور طبرانی وغیر ہم نے سعد بن وقاص (رض) سے اور طبی نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ آیت سعد بن وقاص اور ان کی ماں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب ان کی ماں نے ان کے اسلام لانے کے بعد کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور ہا تھا کہ تم جب تک اسلام سے برگشتہ نہیں ہو گے، میں کھانا نہیں کھاؤں گی، تو انہوں نے کہا کہ امی جان ! آپ کی اگر سو روحیں ہوتیں اور ہر ایک باری باری نکل جاتی تو بھی میں اپنا دین نہ چھوڑتا، اس لئے بہتر ہے کہ آپ کھایئے پیجیے اور مجھ سے امر مستحیل کا مطالبہ نہ کیجیے۔ چنانچہ وہ کھانے لگی۔