فهرس الكتاب

الصفحة 5779 من 6343

(8) اوپر کی آیتوں میں مجرمین اور سرکشوں کا انجام بد بیان کئے جانے کے بعد، اب اہل تقویٰ اور نیک لوگوں کا مآل خیر بیان کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگ اپنے رب کی رضا کی خاطر اس کی بندگی کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے وہ نار جہنم سے نجات پائیں گے اور جنت کی نعمتیں پا کر فائز المرام ہوں گے، اس جنت میں ان کے لئے انواع و اقسام کے پھلدار درخت ہوں گے، انگوروں کے گچھے ہوں گے، نوخیز ہم عمر بیویاں ہوں گی جن کی عمرتیتیس سال سے متجاوز نہیں ہوگی اور نہایت لذیذ شراب سے بھرے پیالے ہوں گے۔

اہل جنت ان جنتوں میں نہ کوئی بے ہو دہ بات سنیں گے، جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ وہ کوئی ایسی بات کریں گے جس پر ایک دوسرے کو جھٹلائیں گے۔ سورۃ الواقعہ آیت (5) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (لایسمعون فیھا لغوا ولاتاتیما، الا قیلا سلاماً سلاماً) " نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی آواز آئے گی۔ "

مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ کے سچے بندوں کو دنیا میں بے ہودہ جھوٹی باتوں سے بہت اذیت ہوتی ہے، اسی لئے جنت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں ایسی اذیت ناک فعل و کیفیت سے دور رکھے گا اور یہ ساری نعمتیں انہیں ان کے رب کی طرف سے ان کے نیک اعمال کا بدلہ ہوگی اور دراصل یہ سب کچھ ان کے رب کا ان پر احسان عظیم ہوگا کہ اس نے انہیں دنیا میں نیک عمل کی توفیق دی جو اللہ کے فضل و کرم کا بہانا بنا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت