(8) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود و منافقین کی طرح، ظلم و عدوان اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدم اطاعت کے بارے میں سرگوشی سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ مومن کی شان کے خلاف بات ہے اور انہیں نصیحت کی ہے کہ اگر وہ سرگوشی کریں تو ایسی باتوں کے لئے جن میں اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی ہو اور اللہ کی بندگی اور اس کے رسول کی اطاعت کی بات ہو۔
آیت (10) میں مومنوں کی ہمت افزائی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں یعنی یہود و منافقین کی سرگوشیوں سے پریشان نہ ہوں انہیں شیطان سرگوشیوں پر ابھارتا ہے تاکہ مسلمانوں کو غم و فکر لاحق ہو، لیکن انہیں ان سرگوشیوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، الایہ کہ اللہ کی یہی مشیت ہو، اس لئے مومنوں کو دشمنوں کی سرگوشیوں سے غمگین نہیں ہونا چاہئے اور اپنے رب کی نصیحتوں پر عمل پیرا رہنا چاہئے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اگر وہ ایسا کریں گے تو دشمن کی چالیں ناکام ہوجائیں گی، اور انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔