فهرس الكتاب

الصفحة 5158 من 6343

(26) ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا ہے جو گزشتہ انبیائے کرام پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتیت ھے اور انہیں ان کے دعویٰ کے مطابق اہل ایمان کا خطاب دے کر اللہ سے ڈرنے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر انہوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا اور اس کے مطابق عمل کیا تو انہیں دوگنا اجر ملے گا ایک اجر گزشتہ نبی پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا، بخاری و مسلم نے ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کی ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملے گا۔ ان میں پہلا اہل کتاب کا وہ آدمی ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا الحدیث سعید بن جبیر کہتے، جب اہل کتاب نے فخر کیا کہ انہیں دوہرا اجر ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت امت محدیہ کے بارے میں نازل فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا: (ویجعل لکم نور اتمشون بہ) " قیامت کے دن تمہیں ایک نور ملے گا جس کی مدد سے پل صراط پار کر جاؤ گے" جیسا کہ سورۃ التحریم آیت (8) میں آیا ہے: (نور ھم یسعی بین ایدیھم) " ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوگا" بعض مفسرین نے (نور اتمشون بہ) کی تفسیر " دین کا واضح راستہ" کیا ہے۔

سورۃ الانفال آیت (29) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (یا ایھا الذین امنوا انتتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا) " اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تم کو فرقان دے گا" یعنی تمہارے لئے حق کو واضح کردے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت