(19) جو مجرمین دنیا میں اللہ کے وعدہ وعید کے تکذیب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جنت و جہنم کی کوئی حقیقت نہیں ہے، جب انہیں ان کی ٹانگوں اور پیشانیوں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی بھڑکتی آگ کے قریب لایا جائے گا تو ان سے فرشتے کہیں گے کہ یہی ہے وہ جہنم جس کی کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والے مجرمین تکذیب کیا کرتے تھے، تو آج اس کا مزا چکھیں، اور جہنم کے مختلف طبقوں میں پھرتے رہیں، اس کے انگاروں میں جلتے رہیں اور انتہائی گرم پانی میں غوطے لگاتے رہیں، قتادہ کہتے ہیں کہ جہنمی کبھی گرم پانی میں غوطے لگائیں گے اور کبھی جہنم میں جلیں گے۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ " آن" جہنم کی ایک ایسی وادمی ہے جس میں اہل جہنم کا خون اور پیپ جم ہوتی ہے، جہنمی اس وادی میں غوطہ لگائیں گے جہنم کے یہ خوفناک مناظر یقیناً انسانوں کو دعوت ایمان و عمل دیتے ہیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے؟!