فهرس الكتاب

الصفحة 1116 من 6343

(88) پہلے موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے گنا ہوں کی معافی مانگی اور اس کے بعد آخرت کی ہر بھلائی مانگی، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کا یہ جواب دیا کہ میں گناہ گاروں میں سے جسے چاہتا ہوں عذاب دیتا ہوں، اور اس کی حکمت کو میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور اس کی بنیادی عدل وانصاف پر ہوتی ہے، اور جسے چاہتا ہوں معاف کردیتا ہوں لیکن میری رحمت تو ہر نیک وبد اور تمام مخلوقات کے لے عام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل چیز عذاب وغضب نہیں بلکہ رحمت ہی اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حاملین عرش فرشتوں کو زبانی فرمایا: کہ اے ہمارے رب ! تیری رحمت ہر شے کو شامل اور تیرا رعلم ہر چیز کو محیط ہے"۔"

احمد، مسلم، اور ابو داؤد نے جندب الجبلی سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں، اس میں سے صرف ایک حصہ رحمت کے ذریعہ تمام مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہے، اور وحشی جانور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اور ننانوے حصہائے رحمت قیامت کے دن کے لیے مؤخر کردیئے گئے ہیں۔

(89 (دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز کے لیے عام ہے اسی رحمت عامہ کی وجہ سے دنیا میں ہر جاندارف کو رزی ملتی ہے، دنیاوی نعمتوں میں ہر نیک وبد شریک ہے، لیکن آخرت کی نعمت جسے رحمت خاص سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، وہ صرف اللہ کی کے ان بندوں کے لیے خاص ہوگی جو اس دنیاوی زندگی میں گنا ہوں سے بچیں گے وکاہ دیں گے اور جو اللہ کی آتیوں پر ایمان لائیں گے اور ان پر عمل کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیت(32) میں فرمایا ہے: کہ دنیا کی زینت اور حلال روزی مومنوں کو دنیا میں ملے گی، اور آخرت میں انہی کے لیے خاص ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت