فهرس الكتاب

الصفحة 4665 من 6343

(5) حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی مغیط کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا۔

اس واقعہ کو امام احمد، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مندہ اور ابن مردویہ نے (سیوطی کے قول کے مطابق) سند جید کے ساتھ حارث بن ضرار خزاعی سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حارث خزاعی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر اسلام قبول کرلیا اور آپ سے کہا کہ میں اپنی قوم کے مسلمانوں کی زکاۃ جمع کر کے رکھوں گا اور آپ کا نمائندہ آ کر مجھ سے وہ مال وصول کرلے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو اس کام کے لئے بھیجا، لیکن وہ بنو خزاعہ کے ڈر سے راستہ سے ہی واپس آگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دیا کہ حارث نے زکاۃ دینے سے انکار کردیا اور مجھے قتل کرنا چاہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کو حارث کی طرف بھیجا ادھر حارث نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایلچی کی آمد میں تاخیر محسوس کی، تو کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے کے لئے روانہ ہوگئے، راستہ میں دونوں جماعتوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو حقیقت حال معلوم ہوئی اور حارث نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا کہ ولید بن عقبہ میرے پاس نہیں آیا تھا، تو اس کی کذب بیانی کا حال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا اور اسی موقع سے یہ آیت نازل ہوئی۔

ابن قتیبہ نے اپنی کتاب " المعارف" میں لکھا ہے کہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط، عثمان بن عفان (رض) کا سوتیلا بھائی تھا، دونوں کی ماں اروی بنت کریز تھی، فتح مکہ کے دن اسلام لایا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بنی المطلق کی زکاۃ لانے کے لئے بھیجا تھا، لیکن وہ راستہ سے ہی سے واپس آگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دیا کہ انہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کردیا ہے، وہ جھوٹا تھا اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ جب کوئی فاسق معصیت کبیرہ کا مرتکب، کوئی اہم خبر لے کر آئے تو جلدی نہ کرو اور کوئی قدم اٹھانے یس پہلے اس کی پوری تحقیق کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم عجلت اور نادانی میں کسی قوم کی جان و مال کو نقصان پہنچا دو اور حقیقت کا پتہ چلنے کے بعدت مہیں ندامت اٹھانی پڑے۔

یہ آیت دلیل ہے کہ فاسق کی خبر رد کردی جائے گی اور خبر دینے والا چاہے رواوی ہو، شاہد ہو، یا مفتی ہو، اس کا ثقہ اور عدل ہونا ضروری ہے اور اگر وہ ثقہ اور عدل ہے تو اس کی روایت قبول کی جائے گی، اگرچہ وہ اکیلا راوی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت