فهرس الكتاب

الصفحة 3177 من 6343

58، آیت 210 میں قرآن کریم کے بارے میں کفار مکہ کے جس زعم باطل کی تردید کی گئی تھی، اسی کی مزید تاکید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ قرآن شیاطین کا کلام نہیں، جسے انہوں نے محمد کی زبان پر جاری کردیا ہے، یہ بات عقلی طور پر محال ہے، اس لیے کہ شیاطین اپنا کلام ان کاہنوں کی زبان پر جاری کرپاتے ہیں جو پرلے درجے کے جھوٹے اور بڑے ہی گناہ گار ہوتے ہیں، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی شہرت تو عام ہے، شیاطین ان کے قریب بھی پھٹک سکتے ہیں، ان پر تو اللہ کا سچا اور برحق کلام اترتا ہے جس میں کوئی شیطان کسی طرح بھی مداخلت نہیں کرسکتا ہے۔

آیت 223 کا ایک مفہوم یہ ہے کہ شیاطین آسمان کی باتیں چھپ کر سننے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر ایک میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی باتیں ملا کر کاہنوں کا بتاتے ہیں، اور اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ کاہن لوگ شیطانوں سے جو کچھ سنتے ہیں، اس میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی بایں ملا کر لوگوں کو بتاتے ہیں۔ پہلے مفہوم کے مطابق واکثرہم کاذبون، سے مراد شیاطین ہیں کہ ان کی اکثر باتیں جھوٹ ہوتی ہیں، اور دوسرے مفہوم کے مطابق اس سے مراد کاہن ہیں کہ شیاطین انہیں جو کچھ بتاتے ہیں ان میں بہت سی جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں سنایا کرتے ہیں

بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ بعض لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کاہنوں کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ کچھ بھی نہیں ہیں لوگوں نے کہا، یا رسول اللہ ! بعض اوقات وہ لوگ صحیح بات بتاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ جن چھپ کر اسے سن لیتا ہے، اور اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال دیتا ہے جس میں کاہن اپنی طرف سے سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت