(3) جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق پر ہیں اور آپ کی قوم کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹک رہی ہے، تو آپ کیلئے یہ بات کسی طرح مناسب نہیں کہ اللہ، اس کے رسول اور دین اسلام کی تکذیب کرنے والوں کی بات مانئے وہ تو تمنا کرتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی عیب جوئی نہ کریں اور ان کی بے بسی بیان نہ کریں تاکہ وہ بھی آپ کو گالی نہ دیں اور اذیت نہ پہنچائیں۔