فهرس الكتاب

الصفحة 5268 من 6343

(6) اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کبر و عناد اور ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔ اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر ان کے زعم باطل کی تردید کریں اور ان کے دل و دماغ میں یہ بات اتارنے کی کوشش کریں کہ قیامت ضرور آئے گی اور وہ دوبارہ یقیناً اٹھائے جائیں گے اور انہیں ان کے کرتوتوں کی خبر دی جائے گی اور ایسا کرنا اللہ کے لئے نہایت آسان ہے۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: قرآن میں یہ تیسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعث بعد الموت کی یقین دہانی کے لئے اپنے رب کی قسم کھانے کا حکم دیا ہے پہلی آیت سورۃ یونس (35) (ویستبؤنک احق ھو قل ای وربی انہ لحق) ہے، جس کا ترجمہ ہے " اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب آخرت واقعی سچ ہے۔ آپ فرما دیجیے کہ ہاں، قسم ہے میرے رب کی، وہ واقعی سچ ہے" اور دوسری آیت سورۃ سبا (3) (وقال الذین کفروا الاتاتینا الساعۃ قلی بلی و ربی لتاتینکم) ہے، جس کا ترجمہ ہے:" اور کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ کہہ دیجیے کہ ہاں، میرے رب کی قسم ! وہ تم پر یقیناً آئے گی۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت