(42) ان آخری آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے ان اوصاف سے اپنی پاکی اور نزاہت بیان کی ہے جن کے ساتھ مشرکین اللہ کو موصوف کرتے تھے اور اپنے رسولوں پر سلامتی بھیجی ہے جنہیں اس نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے مبعوث کیا تھا، ان میں سے ایک آپ بھی ہیں اور آخر میں تمام تعریفوں کو صرف اپنی ذات کے لئے ثابت کیا ہے جو سارے جہان کا پالنہار ہے اور جو اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔