(24) وہ قیامت کے دنتمام مخلوقات کو دوبارہ زندہ کرے گا اور وہی جسے چاہتا ہے مالدار بناتا ہے اور جسے چاہتا ہے فقیر ومحتاج بنا دیتا ہے سورۃ الرعد آیت (26) میں آیا ہے: (یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر) " وہ جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو بڑھا دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے گھٹا دیتا ہے' آیت کا دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہی مالدار بناتا ہے اور وہی ذخیرہ اندوزی کے لئے مال دیتا ہے اور وہی شعری ستارے کا رب ہے اور اس آیت سے مقصود خزاعہ اور ان لوگوں کی تردید ہے جو اس ستارے کی پوجا کرتے تھے ورنہ باری تعالیٰ تو ہر چیز کا رب ہے یعنی شعریٰ ستارہ اللہ کی مخلوق ہے اسے لوگ معبود بنا کر کیوں پوجتے ہیں۔