فهرس الكتاب

الصفحة 2468 من 6343

39۔ یہاں مراد دوسرا صور ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد تمام لوگ زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف چل پڑیں گے، اور اس کی دلیل آیت کا دوسرا حصہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کردی ہے کہ اس دن ہم مجرموں کو جمع کریں گے اس حال میں کہ ان کے چہرے مارے رعب و دہشت کے سیاہی لیے زرد ہوں گے، اور ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہیں گے کہ دنیا میں ہماری عیش پرستی کی زندگی دس دن سے زیادہ کی نہیں تھی۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ آخرت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر دنیا میں گزارے ہوئے خوشیوں کے ایام چند روزہ لگیں گے، اور افسوس کریں گے کہ کاش ہم نے صلاح و تقوی کی زندگی گزاری ہوتی تو اس ابدی زندگی میں ذلت و رسوائی اور عذاب و عقاب کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت