فهرس الكتاب

الصفحة 5557 من 6343

(5) مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت (11) ان دس قریشیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے میدان بدر میں لشکر کفار کو کھانا کھلایا تھا۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہے کہ مکہ کے ارباب عیش و عشرت کافروں کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے، آپ ان کی فکر نہ کیجیے۔ ان سے نمٹنے کیلئے میں آپکی طرف سے کافی ہوں اور میں آپ کا انتقام ان سے ضرور لوں گا۔ حاکم اور بیہقی نے (دلائل میں) عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ اس آیت کے نزول کے کچھ ہی دنوں کے بعد جنگ بدر واقع ہوئی تھی۔

شوکانی نے (ومھلھ قلیلا) کا دوسرا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ " مرنے کے وقت تک آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے" اور اسے راجح قرار دیا یہ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیتوں میں عذاب آخرت کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ آپ کیتکذیب کرتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں ہمارے پاس لوہے کی بیڑیاں ہیں، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہے اور کھانے کے لئے زقوم کا درخت ہے جو کھانے والے کے حلق میں اٹک کر رہ جائے گا، اور ان کے لئے بڑا ہی درد ناک عذاب ہے۔ اور ان کا یہ انجام اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑپوری شدت کے ساتھ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے تودے بن کرپانی کی طرح بہہ پڑیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت