(53) اس آیت کریمہ میں یہود و نصاری اور بعض قبائل عرب کی تردید کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرتے تھے، یہود عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا، اور عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ تم لوگوں نے ایک بدترین گناہ کا ارتکاب کیا ہے کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا ایسی بری بات ہے کہ مقام ربانی کے لیے شدت غیرت کے سبب، قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین میں شگاف پڑجائے، اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں، اس لیے کہ یہ بات کسی طرح مناسب ہی نہیں کہ اللہ کی کوئی اولاد ہو، وہ تو تمام مخلوقات کا خالق و موجد ہے اولاد تو مخلوق کی ہوتی ہے اور جب قیامت ہوگی تو آسمان و زمین میں پائے جانے والے تمام انس و جن اور فرشتے اپنی عبودیت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور کھڑے ہوں گے، اس کے لیے اولاد کا ہونا خلاف عقل ہے، وہ تو اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، اولاد تو مخلوق کی ہوتی ہے جو اپنے لیے دنیاوی زندگی میں یارو مددگار کا محتاج ہوتا ہے۔