(30) مذکورہ بالا ضروری تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ اور زینب بنت حجش کے درمیان طلاق و فراق کا واقعہ بیان کیا اور خبر دی کہ طلاق کے بعد خود اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شادی زینب بنت حجش سے کردی۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ زید بن حارثہ جنہیں اللہ نے اسلام اور اپنے نبی کی صحبت جیسی نعمتوں سے نوازا اور جن پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی احسان کیا کہ انہیں آزاد کردیا ان سے محبت کی اور اپنی پھوپھی زاد سے ان کی شادی کردی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہتے تھے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق مت دو اور اس کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لئے کہ طلاق اس کے لئے عار کا سبب بن جائے گی اور اسے ذہنی تکلیف ہوگی اور تم اپنا بھی خیال کرو، ایسا نہ ہو کہ اس کے بعد تمہیں اچھی بیوی نہ ملے، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے، زینب ہمیشہ زید کو اپنی خاندانی شرافت کا احساس دلاتی تھیں، اور کڑوی کسیلی سناتی رہتی تھیں، اسی لئے زید نے انہیں طلاق دے دینا چاہا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں صبر و ضبط کی نصیحت کرتے تھے، حالانکہ آپ بذریعہ وحی اس بات سے خوب واقف تھے کہ طلاق ہوگی اور اللہ کے حکم کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زینب سے شادی ہوگی، لیکن لوگوں کے اس طعنہ کے ڈر سے کہ محمد نے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کرلی ہے، زید کو طلاق دینے سے روکتے تھے اسی لئے تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کے طعنوں سے ڈرتے ہیں، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں اور اس کے فیصلے کو جلد نافذ ہونے دیں۔
مزید وضاحت کے لئے اللہ نے فرمایا کہ جب زید نے زینب سے شادی کر کے اپنی ضرورت پوری کرلی، تو ہم نے بغیر ولی وگواہان اور بغیر مہر کے آپ کی شادی اس سے کردی، تاکہ ہمیشہ کے لئے یہ بات واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے ان کے شوہروں کی موت یا طلاق دے دینے کے بعد شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور اللہ کے فیصلے کو بہرحال انجام پانا ہی تھا۔