فهرس الكتاب

الصفحة 5837 من 6343

(1) ترمذی، ابن المنذر، ابن حبان، حاکم اور ابن مردویہ نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ (عبس وتولی) ابن ام مکتوم (نابینا) کے بارے میں نازل ہوئی تھی یہ صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سے کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ مجھے کچھ رشد و ہدایت کی بات بتائیے، اور آپ کے پاس (اس وقت) سردار ان مشرکین مکہ بیٹھے تھے اسلئے آپ ان سے منہ پھیرنے لگے تو یہ سورت نازل ہوئی۔

عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابویعلی نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب عبداللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس آئے تو آپ ابی بن خلف سے بات کر رہے تھے اس لئے آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، تو (عبس وتولی، ان جاءہ الاعمی) نازل ہوئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد ابن ام مکتوم کی عزت کرنے لگے روایتوں میں آیا ہے کہ یہ نابینا صحابی خدیجہ (رض) کے ماموں زاد بھائی تھے اور مکی دور کی ابتدا میں ہی اسلام لائے تھے، اور مدنی دور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر غزوات کے وقت ان ہی کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنایا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نابینا صحابی کے لیے اپنا چہرہ سکیڑ لیا، اس سے منہ پھیر لیا اور اس سے بات کرناگوارہ نہیں کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو، اس کی طرف توجہ دینے سے وہ صنادید قریش برامان جائیں جن کے سامنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایمان و اسلام کی تشریح فرما رہے تیھ، آپ کا یہ اعراض دعوتی نقطہ نگاہ سے مفید نہیں ہے، اس لئے کہ وہ اخلاص و رغبت کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا، اس کی خواہش تھی کہ آپ سے علم حاصل کر کے اپنی روح کا تزکیہ کرے، برے اخلاق سے اجتناب کرے، اور اخلاق حمیدہ کو اپنائے، یا آپ سے نصیحت کی باتیں سن کر ان سے مستفید ہو اور جو شخص اپنی دولت اور قوم میں اپنے جاہ و منزلت کی وجہ سے گردن اکڑائے ہوئے ہے اور ایمان و اسلام اور وحی و رسالت کی بات سننے کے لئے تیار نہیں، اسی کی طرف آپ لپکے جا رہے ہیں اور اسی پر اپنی پوری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں، حالانکہ اگر وہ مکتبر اسلام کو قبول نہیں کرتا اور اس کا تزکیہ نفس نہیں ہوتا تو آپ کا کیا نقصان ہوگا، آپ کی ذمہ داری تو صرف پیغام رسانی ہے، اس لئے جو کفار اسلام سیاظہار استغناء کرتے ہیں آپ ان کی فکر نہ کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت