فهرس الكتاب

الصفحة 4077 من 6343

(30) آیت (96) میں مذکور فرشتوں کے جھگڑے کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اس سے پہلے البقرہ، الاعراف، الحجر، الاسراء اور الکہف میں بھی بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے فرشتوں کو بتایا کہ وہ مٹی سے ایک آدمی بنائے گا اور بنا لینے کے بعد انہیں حکم دیا کہ حضرت آدم کی تکریم کے لئے ان کا سجدہ کریں تو ابلیس کے سوا تما مفرشتوں نے اللہ کے حکم کی بجا آوری میں آدم کو سجدہ کیا، ابلیس جنوں میں سے تھا، اس کی فطرت میں کبرو غرور تھا، اس نے سجدہ کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ میں آدم سے بہتر ہوں، میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ ابلیس کی یہ سوچ غلط تھی اور اس کا قیاس قیاس فاسد تھا، چنانچہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کر بیٹھا اور کفر کا مرتکب ہوا، اس لئے اللہ نے اسے اپنی جناب سے دور کردیا، اسے رسوا کیا اور ہمیشہ کے لئے اپنی رحمت سے محروم کردیا اور ذلیل و خوار بنا کر زمین پر بھیج دیا۔ ابلیس نے جب دیکھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ ہوگیا، تو آدم کے خلاف اس کے حقد و حسد کی آگ اور بھڑک اٹھی، اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن تک زندہ رہنے کی مہلت مانگی تاکہ آدم اور اس کی ذریت کو خوب گمراہ کرے اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی، تو اس نے اللہ کی عزت کی قسم کھا کر از راہ تمرود سرکشی کہا کہ میں تریے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کروں گا، ابلیس کی اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاسراء آیت (26) میں یوں بیان کیا ہے: (قال ارایتک ھذا الذی کرمت علی لئن اخرتن الی یوم القیامۃ لاحتنکن ذریتہ الا قلیلاً) " اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی

تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے اپنے بس میں کرلوں گا" اور جن تھوڑے لوگوں کو یہاں مستثنیٰ کیا گیا ہے، ان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاسراء کی آیت (65) میں یوں فرمایا ہے: (ان عبادی لیس لک علیھم سلطان وکفی بربک وکیلا) " میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں، تیرا رب بحیثیت کار ساز کافی ہے۔ "

جب ابلیس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے مخلص بندوں کے سوا سب کو گمراہ کروں گا، تو سدی کے قول کے مطابق اللہ نے بھی اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ میں بھی جہنم کو تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ السجدہ آیت (13) میں یوں بیان کیا ہے: (ولکن حق القول منی لاملاں جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) " لیکن یہ بات بالکل حق ہوچکی ہے کہ میں ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا" اور سورۃ الاسراء آیت (63) میں فرمایا: (قال اذھب فمن تبعک منھم فان جھنم جزاؤکم جزاء مؤفوراً) " اللہ نے کہا کہ جان، ان میں سے جو بھی تیرا تابعدار ہوجائے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت