(5) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے اور صبر و شکیبائی کی تلقین کی جا رہی ہے کہ آپ کو فرعونیوں اور قوم ثمود کے عناد اور ان کی سرکشی کی خبر دی جا چکی ہے اور ان کے پاس بھیجے گئے رسولوں کی صبر و ضبط کی بات بھی بتائی جا چکی ہے کہ انہوں نے ہر تکلیف برداشت کی اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی اس لئے آپ بھی صبر سے کام لجییے اور میرا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہئے اور یہ جان لیجیے کہ جو لوگ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے اور آپ پر ایمان نہیں لائیں گے ان کا انجام انہی فرعونیوں اور قوم ثمود کی طرح ہلاکت و بربادی ہوگا۔
آیت (19) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ کی قوم کے کفار انکار حق میں فرعونیوں اور قوم ثمود سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں کہ قرآن و اسلام کی حقانیت پر روشن اور واضح دلائل آجانے اور فرعونیوں اور قوم ثمود کا انجام معلوم ہونے کے باوجود اپنے کفر و شرک پر اصرار کر رہے ہیں۔
آیت (20) میں کفار قریش کو مزید دھمکی دیتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ وہ ان کے کارہائے بد کو ایک ایک کر کے لکھ رہا ہے، ان کی کوئی حرکت اور ان کا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں ہے، وہ لوگ ہر وقت اور ہر حال میں اس کے قبضہ قدرت میں ہیں، اس سے بھاگ کر ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔