فهرس الكتاب

الصفحة 3432 من 6343

(40) مشرکین کے قول و عمل میں تضاد اور تناقض کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ وہ جب کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں سفر کرتے ہیں اور کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے اور بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی، تو فطرت کے تقاضے کے مطابق وہ صرف ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور اپنے بتوں کو یکسر بھول جاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت موت کے منہ سے انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرتے ہوئے انہیں ڈوبنے سے بچا لیتا ہے، تو پھر اپنے بتوں کا گن گانے لگتے ہیں اور اللہ کے احسانات کی ناشکری کرنے لگتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اپنی اس مشرکانہ چال اور اس عظیم احسان فراموشی کا انجام بدعنقریب دیکھ لیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت