(1) لفظ طہ کے بارے میں شوکانی اور صاحب فتح البیان نے اہل علم کے نو اقوال نقل کیے ہیں ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ایک دوسرا قول یہ ہے کہ یہ نبی کریم کا ایک نام ہے، اور مفسر واحدی نے اکثر مفسرین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ یا رجل یعنی اے شخص کے معنی میں ہے، اور اس سے مراد نبی کریم کی ذات گرامی ہے۔ ابن عباس، حسن بصری، عکرمہ، سعید بن جبیر، ضحاک، قتادہ اور مجاہد وغیرہم کا یہی قول ہے۔
ابن کثیر نے ضحاک سے اور صاحب فتح البیان نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ جب قرآن نازل ہوا تو آپ اور صحابہ کرام نے اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرنا شروع کردیا، یہ دیکھ کر نضر بن حارث اور دیگر کفار مکہ کہنے لگے کہ یہ قرآن تو ان مسلمانوں کے لیے مصیبت بن گیا۔ آیات (2، 3) میں نبی کریم کو مخاطب کر کے انہی کافروں کی تردید کی گئی ہے، کہ یہ قرآن آپ اور آپ کے صحابہ کے لیے شقاوت و بدبختی کا سبب نہیں ہے، بلکہ یہ تو اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے اپنی آیتوں میں موعظت و نصیحت لیے ہوئے ہے، تاکہ وہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے خلوص نیت کے ساتھ اللہ کی بندگی کریں، اور اس راہ میں کفار و مشرکین کی جانب سے جو بھی تکلیف پہنچے اسے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کریں۔
آیت (4) میں قرآن کریم کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے کہ اے میرے نبی ! یہ قرآن آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے آسمان پیدا کیے ہیں، مخلوقات میں سے زمین و آسمان کا بطور خاص اس لیے ذکر آیا کہ بندے اللہ کی ان عظیم مخلوقات کا ہر وقت مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔