فهرس الكتاب

الصفحة 1794 من 6343

(23) مندرجہ ذیل تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے لیے اپنی بعض نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت اور علم و قدرت پر دلیل ہیں، آسمانوں اور زمین کو بغیر کوئی سابق نمونہ دیکھے پیدا کیا، اور ان میں بہت سی دیگر اشیا کو پیدا کیا، آسمان کو مخلوقات کے لیے قابل اطمینان چھت اور زمین کو ان کے لیے بچھاون بنا دیا، تاکہ آسمان کے نیچے سکون و اطمینان کے ساتھ زمین پر اپنی زندگی بسر کرسکیں، اور ان دونوں کے درمیان ایسی مخلوقات پیدا کیں جو انسانوں کے لیے گوناگوں فوائد و منافع کا سبب ہیں۔ یہ سب اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق و مالک ہے اور ہر بات پر قادر ہے، آسمان سے بارش نازل کیا جس کے ذریعہ انواع و اقسام کے پھل اور غلے پیدا کیے جو بنی نوع انسان کے لیے روزی کا کام دیتے ہیں، اور کشتیوں کو اس طرح مسخر کیا کہ وہ ان کی مرضی کے مطابق اللہ کے حکم سے پانی کی سطح پر چلتی رہتی ہیں اور انہیں اور ان کا سامان تجارت لے کر ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتی رہتی ہیں، اور نہروں کو مسخر کیا جو زمین کو چیر کر ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ تک پہنچ جاتی ہیں، جن کا پانی لوگ خود پیتے ہیں، جانوروں کو پلاتے ہیں اور اس سے اپنی زمینیں سیراب کرتے ہیں یہ نہریں اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔

اور آفتاب و ماہتاب کو مسخر کیا جن کی روشنی سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے اور ان دونوں کی روشنی اور ان کی رفتار اور ایک دوسرے کے بعد آنے اور جانے میں عظیم فوائد ہیں جن کا احاطہ اللہ ہی کرسکتا ہے، ان سے زمین پر اگنے والے تمام پودے اور اس پر رہنے والے تمام حیوانات مستفید ہوتے ہیں، تاریکی دور ہوتی ہے، آفتاب کے ذریعہ سال کے مختلف موسموں کا پتہ چلتا ہے، اور ماہتاب کی چال سے مہینوں کی ابتدا و انتہا معلوم ہوتی ہے، ان دونوں کی یہ معہود و معروف رفتار قیامت تک باقی رہے گی کسی حال میں منقطع نہیں ہوگی، اور رات اور دن کو مسخر کیا، رات آرام کے لیے اور دن روزی حاصل کرنے کی راہ میں تگ و دو کے لیے بنایا۔ سورۃ القصص آیت (73) میں فرمایا: (ومن رحمتہ جعل لکم اللیل والنھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ) کہ اس نے اپنی رحمت سے رات اور دن بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو، اور بندوں کو جس چیز کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے اسے اللہ نے ان کے لیے فراہم کردیا، گویا انہوں نے زبان حال سے ان چیزوں کو اپنے لیے اللہ سے مانگا تھا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے بندو ! اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو نہیں کرسکو گے کیونکہ ان کی کوئی انتہا نہیں ہے، اور آخر میں یہ بتایا کہ جو آدمی ایمان و یقین اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے محروم ہوتا ہے وہ اللہ کی ناشکری کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے اور وہ بہت ہی بڑا ناشکرا ہوتا ہے، اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے ور قول و عمل کے ذریعہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق اس سے چھین لی جاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت