(7) انہی اعدائے دین، یہود و نصاریٰ اور مشرکین قریش کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے چراغ کو اپنے پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں، قرآن کریم کو جادو اور میرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر کہتے ہیں، تو جان لیں کہ یہ کافروں کی خاہش کے علی الرغم ان کی خام خیالی ہے، اللہ کے نور کو شمع کی مانند پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا ہے، یہ تو وہ نور ہے جسے اللہ پوری دنیا میں پھیلا کر رہے گا۔
آیت (9) میں اللہ تعالیٰ کے گزشتہ فیصلے کی مزید تاکید آئی ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن اور دین اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کا فیصلہ ہے کہ وہ دین اسلام کو مشرکین کی خواہش کے علی الرغم دنیا کے تمام ادیان و مذاہب پر غالب بنائے گا، مجاہد کا قول ہے کہ نزول عیسیٰ کے وقت دنیا میں اسلام کے سوا کوئی دین نہیں ہوگا۔
مذکورہ بالا دونوں آیتیں چند حروف کے فرق کے ساتھ سورۃ التوبہ میں بھی آئی ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے آیات (23/33) میں فرمایا ہے: (یریدون ان یطفؤا نور اللہ بافواھھم ویا بی اللہ الا ان یتم نورہ ولوکرہ الکافرون ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ عل الدین کلہ ولوکرہ المشرکون)
دونوں کا معنی تقریباً وہی ہے جو اس سورت کی دونوں آیتوں کا ہے۔ سورۃ التوبہ کی دونوں آیتوں کی تفسیر میں جو کچھ لکھا گیا ہے اسے دیکھ لنیا مناسب ہوگا۔