123۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عورتوں کے بارے میں سوال کیا کہ میراث اور دیگر امور میں ان کے کیا حقوق ہیں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا، آپ کہہ دیجئے کہ عورتوں سے متعلق جو مسائل بیان نہیں کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں تمہیں اللہ فتوی دیتا ہے، اور جو مسائل پہلے سے گذشتہ آیتوں میں بیان کیے جا چکے ہیں تو وہ آیتیں تمہیں فتوی دیتی ہیں، جس کی تلاوت تم پہلے سے اسی سورت کی ابتدا میں کر آئے ہو، یعنی اللہ کا فرمان، وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من النساء اور اس کے بعد والی آیتیں۔
امام بخاری نے کتاب التفسیر میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عائشہ (رض) سے وان خفتم الا تقسطوا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ یتیم لڑکی کے بارے میں ہے، جو اپنے ولی کی زیر نگرانی ہو، اور اس کے مال میں شریک ہو، اور اس کا وہ ولی اس کے مال و جمال کی وجہ سے اس سے شادی کرنا چاہے، لیکن اسے مناسب مہر نہ دینا چاہے، اللہ تعالیٰ نے اسے منع فرمایا کہ وہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی نہ کرے۔
عروہ کہتے ہیں، عائشہ (رض) نے کہا کہ لوگوں نے اس آیت کے بعد بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آیت ویستفتونک فی النساء نازل ہوئی۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اللہ کا فرمان و ترغبون ان تنکحوہن اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جس کا ولی اس کے خوبصورت نہ ہونے کی وجہ سے اس سے شادی نہ کرنا چاہے، اور نہ کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی کرنے پر آمادہ ہو، کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ دوسرا آدمی اس کے مال میں شریک ہوجائے گا، اس لیے اسے زندگی بھر کے لیے شادی سے روک دیتا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں جس طرح عورتوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا تھا، اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی حصہ نہیں ملتا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کمزور بچوں کو بھی ان کا حصہ دو، جیسا کہ اللہ نے ابتدائے سورت میں فرمایا ہے یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین۔ اولاد کے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ مذکور موث کے دوگنا دیا جائے، اور یتیموں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو، جیسا کہ اللہ نے ابتدائے سورت میں فرمایا ہے۔ واتوا الیتامی اموالہم کہ یتیموں کو ان کا مال دے دو۔