(14) اس دن دنوں اور انسانوں سے کہا جائے گا کہ تم سب یوم آخرت اور اس کی ہولناکیوں سیغافل، اور دنیا اور اس کی لذتوں میں مشغول تھے، تو آج ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا ہے، اب تم ہر چیز کو اپنے سامنے عیاں پا رہے ہو، مجاہد نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ آج تمہاری نظر تمہارے میزان عمل پر ایسی لگی ہے کہ ہٹتی نہیں ہے، تمہاری بینائی میں تیزی آگئی ہے، بڑے غور سے دیکھ رہے ہو کہ تمہاری نیکیوں کاپلڑا کہیں ہلکا تو نہیں ہو رہا ہے۔