(23) گزشتہ آیتوں میں جنت و جہنم کی جو بات آئی ہے یہ دونوں آیتیں اسی کا تتمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو خطاب کر کے کہا ہے کہ آپ میرے بندوں کو اس بات کی خبر دے دیجیے کہ جو اپنے گناہوں سے تائب ہوگا اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرے گا، اس کے گناہوں کو میں معاف کردوں گا اور اس کے حال پر رحم کروں گا، اور جو شخص اپنے کفر و عصیان پر مصر رہے گا تو اسے جان لینا چاہیے کہ میرا عذاب بڑا ہی دردناک ہے۔
امام بخاری نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب رحمت کو پیدا کیا، تو اسے سو حصوں میں تقسیم کردیا، نناوے حصوں کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور ایک حصہ کو اپنی تمام مخلوقات میں تقسیم کردیا، اللہ کے پاس رحمت کا جو خزانہ ہے، اگر اس کا علم کافر ہوجائے تو کبھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اللہ کے پاس عذاب کی جو مقدار ہے اگر سے مومن جان لے تو جہنم کی آگ سے کبھی اپنے آپ کو مامون نہ سمجھے۔ معلوم ہوا کہ مومن کو امید و ناامیدی اور خوف و رجاء کے درمیان جو معتدل راہ ہے اسے اختیار کرنا چاہیے، نہ اللہ کی رحمت پر بھروسہ کر کے ایمان و عمل کی راہ کو چھوڑ دے، اور نہ ہی اس کی رحمت سے ناامید ہو کر بیٹھ جائے۔