(8) موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلانے کے لیے فرعون کی بیوی آسیہ نے دایہ کو بلوابھیجا لیکن انہوں نے اس کا دودھ نہیں پیا تو کسی اور دایہ کو بلوایا اس کا دودھ بھی پینے سے انکار کردیا اسی طرح بہت سی دائیاں کو بلوایا گیا لیکن بچے نے کسی کا بھی دودھ پینے سے انکار کردیا، اور اللہ نے فرعون وآسیہ اور محل کے دیگر رہنے والوں کے دلوں میں ان کی ایسی شدید محبت ڈالدی کہ سبھی پریشان ہوگئے اور بات شدہ شدہ محل سے باہر نکل گئ ان کی بہن تو تمام حالات کا خاموشی سے جائزہ لے رہی تھی اسنے ہمت کی اور آگے بڑھ کر محل والوں سے کہا کہ مجھے ایک دایہ کا پتا ہے شاید بچہ اس کا دودھ پینے پر آمادہ ہوجائے اور وہ لوگ اتنے اچھے ہیں کہ بچے کی اچھی نگہداشت کریں گے محل والوں نے فورا اس دایہ کو بلایا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں تھیں، بچہ نے ان کے گود میں جاتے ہی لپک کر ان کا دودھ پینا شروع کردیا اور اس طرح اللہ نے انہیں دریائے نیل سے نکال کر فرعون کے ذریعہ ان کی ماں کے اس پہنچا دیا جہاں وہ ان کی محبت کے زیر سایہ پرورش پانے لگے اور ان کی آنکھوں کوٹھنڈک پہنچانے لگے اور اللہ نے ام مومسی سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا پورا ہوگیا اور لوگوں کو اس کی کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی۔