27۔ مشرکین اپنے معبودوں کے ساتھ جہنم میں جھگڑیں گے، اور کہیں گے، اللہ کی قسم ! ہم جو تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے، اور تمہاری عبادت کرتے تھے، تو ہم کھلی گمراہی میں تھے، اور ہماری گمراہی کے ذمہ دار تم ہی مجرمین ہو، تم نے ہی ہمیں شرک و کفر اور گمراہی و سرکشی پر ابھارا، خود بھی ڈوبے اور ہمیں بھی لے ڈوبے۔
سورۃ الاحزاب آیت 67 میں اللہ تعالیٰ نے اہل شرک جہنمیوں کا قول نقل کیا ہے۔ وقالوا ربنا انا اطعنا سادتنا وکبراءنا فاضلوانا السبیلا، اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی بات مانی جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا۔ دنیا میں جنہیں ہم اپنا سفارشی اور مخلص دوست سمجھتے تھے، آج وہ سب کے سب غائب ہیں۔
مشرکین اپنے بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے دربار میں ان کے سفارشی بنیں گے، اور انسانوں کے کچھ شیاطین دنیا میں ان کے بڑے پکے دوست تھے۔ میدانِ محشر میں کوئی بھی ان کے کام نہیں آئے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الزخرف آیت 67 میں فرمایا ہے، الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین، اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، سوائے پرہیز گاروں کے۔