(5) اور اے میرے نبی ! آپ کو یہ بشارت بھی دی جاتی ہے کہ جو شریعت اسلامیہ آپ کو دی گئی ہے اس کی بنیاد سہولت و آسانی پر ہے، اس میں تکلیف مالا یطاق والی کوئی بات نہیں ہے۔ سورۃ الحج آیت (78) میں آیا ہے۔ (وما جعل علیکم فی الدین من حرج) " اور اللہ نے دین میں تمہارے لئے کوئی مشکل بات نہیں رکھی ہے"
اور اے میرے نبی ! آپ لوگوں کے سامنے اللہ کی شریعت اور اس کی آیتوں کو بیان کرتے رہئے چاہے اس سے سارے لوگ نفع اٹھائیں یا نہ اٹھائیں، آپ کا کام تو دین کی تبلیغ کرتے رہنا ہے جو لوگ اس سے نفع اٹھائیں گے وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے برائیوں سے بچیں گے اور اچھائیوں کی طرف سبقت کریں گے اور جو اس سے نفع نہیں اٹھائیں گے وہ شریعت اسلامیہ اور آپ کی نصیحتوں سے دوری اختیار کریں گے، اور جس کے نتیجے میں وہ قیامت کے دن جہنم کی خطرناک آگ میں ڈال دیئے جائیں گے جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی اور جس میں جہنمی کو نہ موت آئے گی اور نہ وہ زندہ رہے گا، یعنی ہر وقت درد ناک عذاب میں مبتلا رہے گا۔ سورۃ فاطر آیت (36) میں آیا ہے: (لایقضی علیھم فیموتوا ولایخفف عنھم من عذابھا) " نہ تو ان کی قضا ہی آئے گی کہ ہو مر جائیں اور نہ ہی دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ "