(15) مشرکین قریش کو اس بات کا بڑا زعم تھا کہ وہ مسجد حرام کی دیکھ بھال کرنے والے اور اسے آباد رکھنے والے ہیں اس لیے وہ اپنے آپ کو اوروں سے ارفع واعلی تصور کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس آتی میں ان کے اس زعم باطل کی نفی کی اور کہا وہ کیسے دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے گھروں کو آباد رکھنے والے ہیں جبکہ وہ خود اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیں اور جانتے ہوئے اس پر مصر ہیں ایسے لوگوں کا تو کوئ بھی قابل قبول نہیں ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے مسجدوں کو آباد کرنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ اس کے رسول اور یوم آخرت پر ایمان رکھے اور حلقہ بگوش اسلام ہو کر نماز قائم کرے زکاہ دے اور اللہ کے علاہ کسی کے خوف کو اپنے دل میں جگہ نہ دے معلوم ہوا کہ جو مومن نہیں ہوگا وہ مسجد کو آباد کرنے والا نہیں ہوگا اور مسجد کو وہی آباد کرتا ہے جو مومن ہوتا ہے اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو صبح وشام مسجد کی طرف جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے (بخاری ومسلم) اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم کسی آدمی کو مسجد جانے کا عادی پاؤ تو اس کے لیے ایمان کی گواہی دو اس کے بعد والی آیت پڑھی (ترمذی )