(7) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے اپنے دو بڑے معجزوں (یدبیضاء اور عصائے موسوی) کا اظہارکیا، ان کی لاٹھی سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگی، لیکن فرعون نے ان کے پیش کردہ معجزات کی تکذیب کی، انہیں جادوگر کہا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور کبر و غرور کا اظہار کرتے ہوئے مجلس سے اٹھ کر چل دیا اور دل میں ٹھانلیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ معجزوں کا شیطانی سازشوں اور حیلوں کے ذریعہ مقابلہ کرے گا۔
(ثم ادبریسعی) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب اس نے لاٹھی کو سانپ بن کر دوڑتے دیکھا تو اس پر شدید دہشت طاری ہوگئی اور پیچھے مڑ کر تیزی کے ساتھ بھاگا۔