فهرس الكتاب

الصفحة 947 من 6343

153۔ اس آیت کریمہ میں دسویں حرام چیز کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ کہ اسلام کے علاوہ دوسرے ادیان ومذاہب اور افکار ونظریات کی اتباع کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ دین اسلام پر چلیں کیونکہ یہی اس کی سیدھی راہ ہے، امام احمد اور حا کم نے عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے سامنے ایک لکیر شیطان کھینچی اور کہا کہ یہ اللہ کی راہ ہے، پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھنچیں اور فرمایا کہ ان راستوں میں سے ہر ایک پر ایک شیطان کھڑا ہے جوک اس پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں اسلام کے لیے سبیل مفردآیا ہے۔ اور دیگر مذاہب اور فرقوں کے لیے سبیل جمع آیا ہے اس لیے کہ حق ایک ہے اور تقلید مذاہب اور عقادی فرقے متعدد اور گونا گوں ہیں۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ"سبیل"کا لفظ یہود یت، نصرانیت، مجوسیت اور دیگر تمام ملتوی، بددعتوں اور گمراہیوں کو شامل ہے جنہیں اہل ہوا ہوس نے پیدا کیا ہے، اسی طرح علم کلام کے وہ تمام فرقے اس لپیٹ میں آجاتے ہیں جو خوامخواہ کی تفصیلات میں داخل ہوتے ہیں، قتادہ کہتے ہیں جان لو کہ راستہ صرف ایک ہے اور اہل ہدایت کی جماعت اور اس کا انجام جنت ہے اور ابلیس نے مختلف راستے پیدا کردیئے ہیں جو گمراہوں کی جماعتیں اور ان کا انجام جہنم ہے۔۔

یہ آیت دلیل ہے اس بات کی کہ امت اسلامیہ کا اتحاد صرف ایک ہے صورت میں وجود میں آسکتا ہے کہ وہ سارے فرققن اور مذاہب کو چھوڑ کر صرف صحیح اسلام کی متبع بن جائے، جو صرف قرآن وسنت کا نام ہے، اس کے بغیر مسلمانوں کو متحد ہونا محال ہے جیسا کہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ امت کسی بھی زمانے میں اسی راہ پر چل کر اصلاح پذیر ہو سکتی ہے۔ جسے اپناکر صحابہ کرام اصلاح پذیر ہوئے۔

مندرجہ ذیل بالا تینوں آتیوں میں جن دس محرمات کا ذکر آیا ہے، درحقیقت یہ اسلام کے دس وصایا ہیں، جن پر اسلام کا دارومدار ہے اور جن پر عمل کر کے انسان دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرسکتا ہے اسی لیے عبد اللہ بن مسعود (رض) کہا کرتے تھے کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہے جس پر ان کی مہر لگی ہوئی ہے تو یہ تینوں آیتیں پڑھے: تک۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت