فهرس الكتاب

الصفحة 4473 من 6343

(8) چونکہ سردار ان قریش اور فرعون اور فرعونیوں کے حالات میں بہت زیادہ تشابہ ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی اور ذہنی تناؤ کم کرنے کے لئے فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے کہ اگر کفار قیش کی جانب سے آپ کو تکلیف پہنچ رہی ہے، تو موسیٰ کو بھی تو فرعون اور فرعونیوں نے تکلیف پہنچائی تھی اور انہوں نے صبر و استقامت سے کام لیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے کفار قریش سے پہلے قوم فرعون کو بھی ایمان باللہ اور طاعت و بندگی کا حکم دے کر آزمایا تھا تو انہوں نے کفر کو پسند کرلیا تھا اور ہم نے ان کے پاس اپنا ایک رسول بھیجا تھا جن کا اللہ اور مومنوں کے نزدیک بڑا مقام تھا اور جو حسب و نسب میں اونچے اور نہانیت بلند اخلاق کے مالک تھے۔ وہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) تھے۔

انہوں نے فرعون سے کہا کہ تم اللہ کے بندوں (بنی اسرائیل) کو آزاد کر دو اور انہیں میرے ساتھ ان کے آبائی وطن جانے دو اس لئے کہ وہ آزاد لوگ ہیں اور ظلم و جور کی وجہ سے اس ملک سے باہر نکل جانا چاہتے ہیں دیکھو ! میں تمہارے لئے اللہ کا سچا اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، تاکہ تمہیں نافرمانی کی صورت میں اس کے عذاب سے ڈراؤں۔

انہوں نے فرعون سے یہ بھی کہا کہ اللہ کی ربوبیت کا انکار اور اپنے رب ہونے کا دعویٰ کر کے، اور اس کے نبی کی تکذیب اور اس کے بندوں پر ظلم و ستم ڈھا کر اللہ کے خلاف اعلان بغاوت نہ کرو اور میں اپنے دعویٰ کی صداقت پر واضح اور صریح دلیل پیش کرتا ہوں اور تم نے جو مجھے پتھروں سے مار کر ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے، تو میں نے اس ذات برحق کی بارگاہ میں پناہ لے لی ہے جو میرا اور تم سب کا رب ہے، اس لئے اب مجھے تمہاری طرف سے کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا ہے اور اللہ کی طرف سے میری یہ حفاظت اس بات کی دلیل ہے کہ میں کذاب و مفتری نہیں ہوں، کیونکہ وہ افترا پردازوں کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ صاحب محاسن التنزیل لکھتے ہیں کہ اس بات سے ان کا مقصد ان سنگین ترین حالات میں اظہار شجاعت و ثبات قدی تھا، تاکہ دشمن انہیں کمزور نہ سمجھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت