(2) بعث بعد الموت اور قیامت کے دن جزا و سزا کا جو عقیدہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے، جب تک کوئی شخص قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر ایمان نہیں لائے گا، اس عقیدہ بعث بعد الموت کو بھی تسلیم نہیں کرے گا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیتوں میں متحرک و جامد اور ظاہر و پوشیدہ ستاروں کی نیز رات اور صبح کی قسم کھا کر انسانوں کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ قرآن جس میں بعث بعد الموت کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے، وہ کسی انسان کا نہیں بلکہ رب العالمین کا کلام ہے جسے جبریل امین نے خاتم النبین پر اتارا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان ستاروں کی قسم جو دن کے وقت چھپ جاتے ہیں، مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ پانچ مشہور ستارے، زحل، مشتری، مریخ، زہرہ اور عطارد ہی، فراء کا قول ہے کہ یہ پانچوں ساترے آفتاب نکلنے کے بعد اسطرح چھپ جاتے ہیں جس طرح ہر نیاں غاروں میں چھپ جاتی ہیں، لغنت کی کتاب " الصحاح" میں " الخنس" تمام ہی ستاروں کو کہا گیا ہے، اس لئے کہ دن کے وقت سبھی چھپ جاتے ہیں، یہ ستارے آفتاب و ماہتاب کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اور آفتاب کی روشنی کے نیچے چھپے بھی رہتے ہیں۔
اور رات کی قسم جب وہ دن کو پیچھے چھوڑ کر آگے آجاتی ہے اور ہر چیز پر اپنی سیاہ چادر ڈال دیتی ہے اور صبح کی قسم جس کی روشنی پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورا دن نکل آتا ہیع۔
بے شک وہ قرآن جو انسانوں کے سامنے بعث بعد الموت کا عقیدہ پورے شرط وبسط کے ساتھ پیش کرتا ہے، اسے اللہ کے معزز و مکرم رسول جبریل روح الامین نے اپنے رب کی جانب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے، وہ جبریل امین جنہیں ان کے رب نے ایسی زبردست قوت عطا کی ہے کہ کوئی انسان یا جن ان کے پاس موجود وحی ان سے نہ چھین سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی نقص و اضافہ کرسکتا ہے، جیسا کہ سورۃ النجم آیت (5) میں آیا ہے: (علمہ شدید القوی) " آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری قوت والے فرشتے نے سکھایا ہے" اور وہ روح الامین فرشتہ عرش والے کے نزدیک بڑا اونچا مقام رکھتے ہیں اور آسمانوں میں رہنے والے سبھی ان کی بات مانتے ہیں اور وہ اپنے رب کی وحی اور اسرار رسالت کے بڑے ہی امانت دار ہیں۔