(19) دنیاوی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے، محض دھوکہ ہے، یہاں کی کسی چیز کو ثبات و دوام حاصل نہیں ہے، ہر شے فانی ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ تم لوگ اس فانی زندگی کی لذتوں میں مشغول ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہرگز نہ چھوڑو، اور فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایمان لاؤ گے اور کفر و معاصی سے بچو گے، تو اس کا وعدہ ہے کہ وہ تمہارا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ اور اسے تمہارا مال نہیں چاہئے، کیونکہ وہ تو غنی اور بے نیاز ہے، اگر وہ تم سے مال مانگتا ہے اور مانگنے میں الحاج سے کام لیتا تو تم بخیلی کرنے لگتے اور اسلام کے خلاف تمہارے دل کے کینے باہر آجاتے۔ وہ تو تم سے توحید، انکار شرک اور صرف اپنی طاعت و بندگی کا مطالبہ کرتا ہے۔
بعض مفسرین نے (ولایسئالکم اموالکم) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ تم سے تمہارا سارا مال نہیں مانگتا ہے، بلکہ صرف ڈھائی فیصد مانگتا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ تمہاے محتاج و فقیر مسلمان بھائیوں کی ضرورت پوری ہو۔ اگر وہ تمہار اسارا مال مانگتا، اور اس پر اصرار کرتا تو تم بخل پر اتر آتے (جیسا کہ طبع انسانی کا خاصہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس سے مال طلب کرنے میں الحاح کرنے لگتا ہے تو وہ زیادہ بخیل بن جاتا ہے) اسلام کے خلاف تمہارے دل کے کینے باہر آجاتے اور تم اس دین سے ہی نفرت کرنے لگتے جو تم سے تمہارا سارا مال مانگتا ہے۔