فهرس الكتاب

الصفحة 2507 من 6343

(5) کفار مکہ نے قرآن کریم کے بارے میں لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ جادو، جھوٹے خواب، اللہ کے خلاف افترا پردازی اور شاعری کا مجموعہ ہے، اور اگر محمد کو اصرار ہی ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے تو گزشتہ انبیا کی طرح کوئی نشانی لا کر دکھائے، جیسے صالح نے اونٹنی نکلا کر دکھا دی اور موسیٰ اور عیسیٰ نے دوسرے معجزات پیش کیے۔

بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کا یہ سوال خبث و شرارت اور کفر و عناد پر مبنی تھا، اس لیے کہ قرآن کریم کی آیتیں اور نبی کریم کے ذریعہ دیگر معجزات کا وقتا فوقتا ظہور، ایمان لانے کے لیے کافی تھا اور اگر اللہ کے علم میں ہوتا کہ وہ گزشتہ انبیا جیسی نشانیاں دیکھ کر ایمان لے آئیں گے تو اللہ ویسی نشانیاں بھی بھیج دیتا، لیکن ان کا یہ انداز گفتگو صرف حق کا انکار کرنے کے لیے تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فمرایا کہ جو کافر قومیں ان سے پہلے دنیا میں گزر چکی ہیں انہوں نے بھی انہی کی طرح نشانیوں کا مطالبہ کیا تھا اور ان نشانیوں کے آجانے کے بعد ایمان نہیں لائیں، تو ہم نے انہیں مزید مہلت دیئے بغیر ہلاک کردیا، ہمیں معلوم ہے کہ یہ کفار مکہ بھی ایسا ہی کریں گے اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ انہیں ہلاک کردیا جائے، اسی لیے ان کے اصرار کے باوجود ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا جارہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت