(12) اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو زمین میں چل پھر کر مختلف الانواع انسانوں کا مشاہدہ کرنے اور ان میں غوروفکر کی دعوت دیں کہ جس طرح اللہ نے گوناگوں انسان کو پیدا کیا ہے جن کے رنگ، طبائع، اور زبانیں الگ الگ ہیں اسی طرح قیامت کے دن انہیں دوبارہ پیدا کرے گا اس لیے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ اس دن کافروں اور منکرین آخرت کو عذاب دے گا اور مومنوں اور اپنے اوامر ونواہی کی پیروی کرے نے والوں کو اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کرے گا۔ آیت 21 کے آخر میں مذکورہ بالا عقیدہ بعث بعدالموت کی مزید تاکید وتوثیق کے طور پر فرمایا کہ اے انسانو تمہیں بہرحال اپنے خالق کے پاس ہی لوٹ کرجانا ہے۔ آیت 22 میں اسی بات کو یوں کہا کہ اے انسانو تم اللہ کو کسی حال میں عاجز نہیں کرسکو گے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں، جہاں کہیں بھی تم ہوگے وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے میدان محشر میں جمع کرے گا اور اس کے سوا تم اپنا کوئی یارومددگار نہیں پاؤ گے۔ آیت 23 میں فرمایا کہ جو لوگ اسدنیا میں الہ کی ان آیتوں کا انکار کرتے ہیں جو اس نے اپنے انبیاء پر نازل کی ہیں اور قیامت کے دن اس کے حضور کھڑے ہو کر حساب دینے کا انکار کرتے ہیں وہ لوگ اس دن جب سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنے کرتوتوں کو سوچ سوچ کر اللہ کی رحمت اور اس کی جنت سے بالکل ناامید ہوجائیں گے اور بالآخر ان کاٹھکانا جہنم ہوگی جس میں انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔