(4) آیات (13/14) میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس برے انجام کا سبب بیان فرمایا کہ یہ اہل جہنم دنیا کی زندگی میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوب عیش پرستی کرتے رہے، انہوں نے قیامت اور جنت و جہنم کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا، انہوں نے اپنے پیٹ اور اپنی شہوت رانی کے سوا کسی دوسری بات کے بارے میں کبھی بھی غور نہیں کیا، یہ لوگ رب العالمین کی بندگی سے یکسر غافل رہے، یہ لوگ یہی سمجھتے رہے کہ بعث بعد الموت اور اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر حساب دینے سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں۔
آیت (15) میں ان جہنمیوں کے اس بیمار فکر کیتردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سراسر غلطی پر ہو، تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور تمہارا رب تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے، وہ تمہیں ضرور ان کا بد لہ دے گا اور تم ضرور جہنم رسید ہو گے۔