فهرس الكتاب

الصفحة 1413 من 6343

(35) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ اگر مشرکین عرب آپ کی تکذیب پر مصر رہیں تو ان سے اعلان برات کردیجیے، اس لیے کہ آپ نے ان کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا ہے۔ آیات (41، 42، 43) میں بتایا گیا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، ان سے ایمان کی توقع نہیں کی جاسکتی، جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ بظاہر سنتے تو ہیں، لیکن اس سے کوئی استفادہ نہیں کرتے، اس لیے کہ وہ بہرے ہیں اور عقل سے بھی محروم ہیں، اور آپ کی طرف وہ بظاہر دیکھتے بھی ہیں، لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس لیے کہ وہ بصارت اور نور بصیرت دونوں سے محروم ہیں۔

اس کے بعد آیت (44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم پر ان کا ایمان نہ لانا، ان کے شامت اعمال کا نتیجہ ہے، جب انہوں نے کبر و غرور میں آکر حق کا انکار کردیا اور باطل پر اصرار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایمان و عمل کی توفیق چھین لی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے۔ امام مسلم نے ابو ذر غفاری سے حدیث قدسی روایت کی ہے کہ اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کردیا ہے، اور تمہارے آپس میں بھی اسے حرام کردیا ہے، اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اس کے بعد فرمایا: اے میرے بندو ! تمہارے اعمال کو میں گن رہا ہوں، پھر میں تمہیں پورا کا پورا لوٹا دوں گا، تو جو کوئی اچھا نتیجہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو برا نتیجہ پائے وہ اپنے آپ کو کوسے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت