فهرس الكتاب

الصفحة 6112 من 6343

(1) متعدد گزشتہ آیتوں میں " لا اقسم" کی تفسیر گذر چکی ہے اور بتایا جا چکا ہے کہ لفظ " لا" زائد ہے اور ہیاں " البلد" سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور قسم کو اس حال کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شہر میں موجد ہیں، جس سے اشارہ اس طرف ہے کہ مکہ کی قسم اس لئے کھائی جا رہی ہے کہ آپ وہاں موجود ہیں، یعنی آپ کا وہاں رہنا مکہ کے لئے باعث شرف ہے، لیکن اس حقیقت کو اہل مکہ نے نہیں سمجھا، اور آپ کو وہاں سے نکال دینے کا فیصلہ کیا۔

بعض نے (وانت حل بھذا البلد) کا معنی اہل مکہ کے حال پر اظہار تعجب بیان کیا ہے کہ جس شہر میں کبوتر کا شکار حلال نہیں وہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جا رہی ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح و کامرانی کی خوشخبری دی گئی ہے کہ عنقریب یہاں آپ بحیثیت فاتح داخل ہوں گے اور مشرکین میں سے کچھ کو قتل کریں گے اور کچھ کو قید کرلیں گے۔ اور یہ استثنائی حکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص تھا مکہ مکرمہ نہ آپ سے پہلے کسی کے لئے حلال بنایا گیا اور نہ آپ کے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔

امام بخاری نے کتاب المغازی میں مجاہد سے روایت کی کہ ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: " مکہ نے مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا، اور میرے لئے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لئے حلال بنایا گیا۔" ابن جریر کی روایت میں ہے کہ اسی گھڑی میں ابن خطل کو قتل کیا گیا درانحالیکہ وہ کعبہ کی چادر پکڑے لٹکا ہوا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت