(19) مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ دین اسلام پر ان کی ثبات قدمی پورے الخاص کے ساتھ ہو اور وہ ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس سے طلب مغفرت کرتے رہیں، اس سے ڈرتے رہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور کسی حال میں بھی مشرکین میں سے نہ بنیں جنہوں نے دین فطرت (دین اسلام) کو چھوڑ کر سینکڑوں باطل ادیان و مذاہب ایجاد کرتے کر لئے، اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ یہ سوچ کر خوشی میں مگن رہنے لگا کہ اس کا دین سچا ہے، حالانکہ دین اسلام کے سوا کوئی بھی دین صحیح نہیں ہے، اس لئے اب جو شخص بھی راہ ہدایت پر گامزن ہونا چاہے گا، اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ تمام دیگر ادیان و مذاہب، باطل فرقوں اور بدعتوں اور خرافات سے دامن جھاڑ کر دین اسلام کو اختیار کرلے جو اللہ کی آخری کتاب اور خاتم النبین کی سنت کے مجموعے کا نام ہے۔