(65) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بات آئی ہے، اسی مناسبت سے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا ہے کہ آپ مشرکین مکہ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیجیے، تاکہ وہ اللہ پر ایمان لے آئیں، اور انہیں یقین ہوجائے کہ اس کے علاوہ کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ جن کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے انہیں نشانیوں اور انبیاء کی نصیحتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
آیت (102) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا مشرکین چاہتے ہیں کہ ان پر گزشتہ قوموں کی طرح اللہ کا عذاب آجائے؟ تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ پھر تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ اس عذاب کا انتظار کرتا ہوں، جس کے ذریعہ اللہ صرف ظالموں اور مشرکوں کو ہلاک کرتا ہے، اسی لیے آیت (103) میں فرمایا کہ جب اللہ کے باغیوں پر ہمارا عذاب آتا ہے تو ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو اس سے بچا لیتے ہیں، اس لیے کہ ہم نے اپنے اوپر اس بات کو واجب کردیا ہے کہ اہل ایمان کو عذاب سے بچا لیں گے۔