فهرس الكتاب

الصفحة 4406 من 6343

(17) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار قریش کے رشد و ہدایت کی بڑی خواہش رکھتے تھے، اسی لئے ان کے سامنے دعوت حق پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور ان کی سرد مہری اور بے اعتنائی دیکھ کر ملول خاطر ہوتے تو اللہ تعالیٰ انہیں تسلی دیتا اور کہتا کہ آپ کا کام تو دعوت اسلام پیش کردینا ہے، ہدایت دینا تو صرف اللہ کا کام ہے اور کفار قریش تو بہرے ہیں، ان سے تو قوت سماع سلب کرلی گئی ہے، یہ کب اللہ کی آیتوں اور دلیلوں کو سن سکیں گے، یہ تو اندھے ہیں، قوت بصارت سے محروم ہیں، اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر بھی ان سے عبرت حاصل نہیں کرسکیں گے اور گم گشتہ راہ ہیں، سیدھی راہ سے کو سوں دور نکل گئے ہیں، اب راہ راست پر نہ آسکیں گے۔

یا تو آپ ان پر غالب آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، تو ہم ان کے کفر و شرک کا انتقام عذاب جہنم کے ذریعہ لیں گے، یا اپنے وعدے کے مطابق اپنی قدرت کا کرشمہ آپ کو دنیا میں ہی دکھلا دیں گے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ کفار قریش کے جتنے بڑے رؤساء تھے، یا تو انہوں نے توحید کا کلمہ پڑھ کر اپنی جان بچا لی، یا پھر صحابہ کرام کے ہاتھوں جنگ کے میدانوں میں مارے گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت