(16) اس دن تم گمراہوں کو اور اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے والوں کو کھانے کے لئے شجر زقوم کا پھل ملے گا، جو نہایت ہی بدنما، بد ذائقہ اور بدبو دار ہوگا، لیکن بھوک کی شدت سے تم اسے کھاتے چلے جاؤ گے، یہاں تک کہ اپنا پیٹ بھرلو گے پھر تمہیں شدید پیاس لگے گی، جسے بجھانے کے لئے تمہیں نہایت ہی گرم ابلتا ہوا پانی ملے گا، جسے تم اس بیماری اونٹ کی طرح پیتے چلے جاؤ گے جو کبھی سیراب نہیں ہوتا ہے۔ ضحاک، ابن عیینہ، اخفش اور ابن کیسان کہتے ہیں کہ " ھیم" ریتیی زمین کو کہتے ہی، جو پانی کو پیتی جاتی ہے اور اوپر اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا جہنمی بھی پیاس کی شدت سے کھولتا ہوا پانی پیتے چلے جائیں گے اور انہیں سیرابی حاصل نہیں ہوگی۔