فهرس الكتاب

الصفحة 3170 من 6343

57۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دیں، اس لیے کہ قیامت کے دن صرف اللہ پر ایمان ہی کسی کی نجات کا سبب بنے گا۔ امام بخاری نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اے فاطمہ بنت محمد، اے صفیہ بنت عبد المطلب اور اے عبدالمطلب کے بیٹو ! میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتا ہوں تم لوگ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ،

اللہ نے آپ کو یہ بھی حکم دیا کہ آپ مومنوں کے ساتھ شفقت و رحم دلی کا برتاؤ کیجئے، تاکہ ان کے دلوں میں ایمان راسخ ہوجائے، اور اللہ کے جو بندے آپ کی نافرمانی کریں ان سے برات کا اعلان کردیجئے اور ہر حال میں اپنے اللہ پر بھروسہ کیجئے جو ہر چیز پر غالب ہے، اور جو اپنے مومن بندوں پر نہایت مہربان ہے، اور جو آپ کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے، جب آپ رات کے وقت تہجد کے لیے اٹھتے ہیں تو وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور جب لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قیام، رکوع اور سجدہ کرتے ہیں تو بھی وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے، یعنی اللہ کی نگاہ کرم ہر حال میں آپ پر ہوتی ہے، اس لیے کہ وہ بڑا سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ جب آپ کو شرک اور مشرکین سے اعلان براءت کا حکم دیا گیا تو لازم تھا کہ آپ کو اللہ پر بھروسہ کرنے کی نصیحت کی جاتی، کیونکہ اعلانِ براءت کے بعد تمام مشرکین نے آپ سے کھل کر دشمنی کرنا شروع کردی، ایسی حالت میں آپ ایک فرد و احد کی حیثیت سے اللہ کی نصرت و تائید اور اس کی مدد کے بغیر پوری قوم کا کیسے مقابلہ کرسکتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت