فهرس الكتاب

الصفحة 4216 من 6343

24 اللہ تعالیٰ نے اس داعی الی اللہ کو پہلے تو فرعون اور فرعونیوں سے نجات دی اور جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ سمندر میں غرق ہوا تو اسے موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر مومنین کے ساتھ ڈوبنے سے بچا لیا اور فرعون اور فرعونیوں کی بد ترین عذاب نے آ گھیرا، دنیا میں نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ سمندر میں ڈبو دیئے گئے اور قبر اور برزخ میں صبح و شام یعنی ہر وقت ان کی روحوں کو آگ کا عذاب دیا جاتا ہے اور جب قیامت آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ فرعون اور فرعونیوں کو شدید ترین عذاب میں ڈال دو۔

سیوطی نے کرمانی کی کتاب " العجائب" کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ آیت عذاب قبر کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس لئے کہ آیت میں روحوں کو عذاب دیا جانا، روز قیامت کے عذاب سے پہلے بتایا گیا ہے۔ عذاب قبر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آگاہ رہو ! تم لوگ قبروں میں آزمائشوں میں ڈالے جاؤ گے۔ (احمد و مسلم)

اور بخاری نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" عذاب قبر حق ہے" عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت