5۔ اس آیت کریمہ میں اس آدمی کا حکم بیان کیا گیا ہے جو اپن بیوی پر زنا کی تہمت لگائے، اور اپنی سچائی پر چار گواہ پیش نہ کرسکے، ایسے آدمی کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اس عورت کو حاکم کے پاس لے جائے اور اس پر جو تہمت لگائی ہے اسے دہرائے۔ تو حاکم اس سے کہے گا کہ وہ چار بار گواہی دے کہ اس نے اپنی بیوی پر جو تہمت لگائی ہے اس میں سچا ہے، اور پانچویں بار کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، اس گواہی کے بعد وہ عورت امام شافعی اور بہت سے علماء کے نزدیک اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی، اور اس عورت پر حد زنا واجب وہجائے گی۔ الا یہ کہ وہ عورت بھی چار بار گواہی دے کہ اس کے شوہر نے اس پر جو تہمت لگائی ہے اس پر بہتان ہے اور اس کا شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں بار کہے کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔
آیت (10) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تشریعی حکم اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اس لیے کہ اس کے ذریعہ اس نے مسلمانوں کو ایک بہت بڑٰ اجتماعی مشکل کا حل بتایا اور جھوٹے کی فضیحت کے بجائے اس کی پردہ پوشی کردی کہ ممکن ہے مستقبل میں وہ اپنی حالت سدھار لے اور اللہ کے سامنے صدق دل سے تائب ہو کر اپنی عاقبت اچھی بنا لے، اس لیے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑی حکمتوں والا ہے۔
ان آیات کے شان نزول کے بارے میں محدثین کرام نے ہلال بن امیہ انصاری کا مشہور واقعہ بیا کیا ہے۔ امام احمد اور بخاری و مسلم وغیرہم نے ابن عباس سے جو روایتیں نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہلال بن امیہ ایک رات جب اپنے کھیت سے گھر واپس آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک اجنبی آدمی کو دیکھا، اور اپنے کان سے بھی دونوں کی باتیں سنیں۔ صبح کو رسول اللہ سے جو کچھ دیکھا تھا بیان کیا، تو آپ پر یہ بات گراں گزری اور سوچا کہ اگر ہلال بن امیہ چار گواہ نہیں پیش کرسکیں گے تو انہیں اسی کوڑے لگ جائیں گے، ہلال نے آپ کے چہرے میں یہ بات پڑھ لی اور کہا کہ یا رسول اللہ میں سچا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو حل ضرور کرے گا۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے ہلال بن امیہ سے کہا کہ اگر تم نے اپنے دعوی کی صداقت پر چار گواہ پیش نہیں کیے تو تمہیں کوڑے لگائے جائیں گے۔ چنانچہ تھوڑٰ دیر کے بعد ہی یہ آیتیں نازل ہوئیں، اور آپ نے اس عورت کو بلا بھیجا، اور اوپر لعان کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق ہلال نے اپنی سچائی کی گواہی دی، پھر عورت سے کہا گیا تو اس نے بھی چار بار اپنے شوہر کے جھوٹا ہونے کی گواہی دی، اور پانچویں بار سے پہلے رکی اور اعتراف زنا کرلینا چاہا، لیکن پھر یہ کہتے ہوئے کہ میں اپنے قبیلہ کو رسوا نہیں کروں گی، کہہ گزری کہ اگر میرا شوہر سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو، اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے، لیکن جو بچہ اس عورت کے بطن سے پیدا ہوا وہ ویسا ہی تھا جیسا کہ رسول اللہ نے کہا تھا کہ اس کے اوصاف ایسے ایسے ہوں گے تو وہ ہلال بن امیہ کا نہیں ہوگا۔ جب رسول اللہ کو خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا اگر قسمیں نہ کھائی گئی ہوتیں تو آج عورت کے ساتھ میرا معاملہ کچھ اور ہوتا۔